ویبھو سوریہ ونشی کی فیلڈنگ پر تنقید: محمد کیف اور سنجے منجریکر کا سخت ردعمل
ویبھو سوریہ ونشی: بیٹنگ میں کمال، فیلڈنگ میں سوال؟
آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز کے نوجوان بیٹر ویبھو سوریہ ونشی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی بیٹنگ کی رفتار، چھکوں کی تعداد اور اسٹرائیک ریٹ اس وقت کرکٹ حلقوں میں موضوع بحث ہے۔ تاہم، بیٹنگ میں شاندار کارکردگی کے باوجود، میدان میں ان کی فیلڈنگ کی صلاحیتوں پر بڑے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
محمد کیف اور سنجے منجریکر کا سخت موقف
سابق بھارتی کرکٹرز محمد کیف اور سنجے منجریکر نے ویبھو سوریہ ونشی کی فیلڈنگ پر کھل کر تنقید کی ہے۔ سنجے منجریکر کا ماننا ہے کہ ایک مکمل کرکٹر وہی ہے جو بیٹنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں بھی ماہر ہو۔ منجریکر نے کہا کہ ویبھو کو میدان میں زیادہ وقت گزارتے ہوئے دیکھنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دباؤ کے لمحات میں ان کی کارکردگی کیسی ہوتی ہے۔ اگر وہ ایک بہترین بیٹر ہونے کے باوجود فیلڈنگ میں بوجھ ثابت ہوتے ہیں، تو یہ ان کے بین الاقوامی کیریئر کے لیے تشویشناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب محمد کیف نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹس اور تجزیوں میں ویبھو کی فیلڈنگ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں فیلڈنگ کا معیار تشویشناک حد تک گر چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ویبھو سوریہ ونشی کو میں نے فیلڈ پر بہت کم دیکھا ہے اور جب بھی دیکھا، وہ کیچ ڈراپ کرتے ہوئے یا سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔’ کیف نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کے لیے فیلڈنگ میں چستی انتہائی ضروری ہے اور کوچز کو نوجوان کھلاڑیوں کی اس مہارت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
راجستھان رائلز کا دفاع
تنقید کے بڑھتے ہوئے شور کے درمیان، راجستھان رائلز کے ڈائریکٹر زوبین بھروچا نے اپنے نوجوان کھلاڑی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ دیہنک جاگرن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویبھو میں وہ نایاب خصوصیات موجود ہیں جو انہیں دوسرے کھلاڑیوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں بیٹنگ، فیلڈنگ اور کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
بھروچا نے مزید کہا، ‘ویبھو کے ہاتھ بہت محفوظ ہیں اور میدان میں ان کی نقل و حرکت متاثر کن ہے۔ جیسے جیسے ان کی جسمانی طاقت اور فٹنس میں بہتری آئے گی، وہ مزید تیز اور پھرتیلے فیلڈر ثابت ہوں گے۔ وہ سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ان کا کام کرنے کا جذبہ قابل تعریف ہے۔’
مستقبل کی راہ کیا ہے؟
ویبھو سوریہ ونشی بلاشبہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں جن پر جوس بٹلر جیسے بڑے نام بھی بھروسہ ظاہر کر چکے ہیں اور انہیں کرس گیل سے بھی آگے نکلنے والا قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، جدید دور کی کرکٹ میں صرف بلے بازی کافی نہیں ہے۔ اگر انہیں بھارتی ٹیم میں مستقل جگہ بنانی ہے تو انہیں اپنی فیلڈنگ کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بنانا ہوگا۔
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی پی ایل کا یہ سیزن ان کے لیے ایک سیکھنے کا موقع ہے۔ اگر وہ اپنے ناقدین کی بات کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے فٹنس اور فیلڈنگ پر کام کرتے ہیں، تو وہ یقینی طور پر آنے والے وقت میں ایک مکمل آل راؤنڈ پیکج بن کر ابھریں گے۔ فی الحال، ویبھو پر نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا وہ اپنی بیٹنگ کی طرح فیلڈنگ میں بھی اپنی قابلیت ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں۔
نتیجہ
ایک طرف جہاں بیٹنگ کے اعداد و شمار ویبھو کے حق میں ہیں، وہیں فیلڈنگ پر اٹھنے والے سوالات انہیں اپنی خامیوں پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے ناقدین کو غلط ثابت کر پائیں گے؟ یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی صلاحیتیں بھارتی کرکٹ کا ایک روشن مستقبل ثابت ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ فیلڈ پر اپنی چستی کو بہتر بنائیں۔
